بارش کی رات تھی۔ پنڈی بہاوالدین کی پرانی حویلی کی لائبریری میں
صرف ایک موم بتی ٹمٹما رہی تھی۔
24 سال کی آمنہ اکیلی رہتی تھی۔ دادا کے مرنے کے بعد یہ حویلی ہی اس کا گھر تھی۔
گاؤں والے اسے "منحوس" کہتے تھے۔ کوئی رشتہ نہیں آتا تھا۔
رات کے 12 بجے۔ گھڑی کی ٹک ٹک۔
اچانک کھڑکی سے آواز آئی۔ دھڑام!
آمنہ ڈر گئی۔ لالٹین اٹھا کر صحن میں گئی تو دیکھا...
ایک بھیڑیا خون میں لت پت گرا پڑا ہے۔ اس کی ٹانگ سے خون بہہ رہا تھا۔
آمنہ کا دل کانپا۔ لیکن اس نے ہمت کی۔
"بیچارہ... کتنا درد ہو رہا ہوگا"
اس نے اپنا دوپٹہ پھاڑ کر بھیڑیے کی ٹانگ باندھی۔ پانی پلایا۔
بھیڑیے کی آنکھیں... عجیب تھیں۔ انسانوں جیسی۔ گہری، اداس، اور جیسے شکریہ کہہ رہی ہوں۔
آدھی رات تک وہ اس کی پٹی کرتی رہی۔
فجر کے وقت آنکھ لگ گئی۔
جب آنکھ کھلی تو بھیڑیا غائب تھا۔
صرف خون آلود پٹی اور فرش پر ایک بڑا پنجے کا نشان۔
آمنہ نے سر ہلایا "خواب تھا کیا؟"
شام کو دروازے پر زور سے دستک ہوئی۔
باہر ایک لڑکا کھڑا تھا۔ لمبا، گندمی رنگ، کالے کپڑے۔
کندھے پر پٹی بندھی تھی۔ آنکھیں تیز اور خطرناک۔
لڑکے نے آمنہ کو اوپر سے نیچے دیکھا اور بولا:
"تم نے میری جان بچائی تھی رات"
آمنہ پیچھے ہٹی "آپ... آپ کون ہیں؟"
لڑکا مسکرایا۔ اس کی مسکراہٹ میں بھیڑیے جیسے نوکیلے دانت تھے۔
"نام ہے ارمان۔ اور ہاں... میں وہی بھیڑیا ہوں"
آمنہ کی سانس رک گئی "جھوٹ!"
ارمان ایک قدم آگے آیا۔ اس کی آواز بھاری ہو گئی:
"جھوٹ نہیں آمنہ۔ پورے چاند کی رات کو میں بھیڑیا بن جاتا ہوں۔
اور تم نے آج میری جان بچا کر... خود کو میری قسمت سے باندھ لیا ہے"
"مطلب؟" آمنہ کی آواز کانپ گئی
ارمان نے دروازہ بند کر دیا۔ لالٹین کی روشنی میں اس کے چہرے کا سایہ لمبا ہو گیا۔
"مطلب یہ کہ اب تمہاری جان... میری ہے"
باہر سے بھیڑیوں کے چلانے کی آواز آئی۔
To Be Continued...
---
اگلا Chapter: "پورے چاند کی رات"
⭐ Vote کریں + Follow کریں ❤️