اگلی صبح باغ میں گلاب کھلے ہوئے تھے۔
100 سال بعد پہلی بار محل میں زندگی تھی۔
عارض نے رضا کے لیے ناشتہ بنایا تھا۔
"تمہیں چائے کیسی لگی؟"
رضا ہنس دی۔ "100 سال پرانے شیطان کے ہاتھ کی چائے۔ زبردست"
دونوں ہنس پڑے۔
اچانک عارض سنجیدہ ہو گیا۔ وہ گھٹنوں پر بیٹھ گیا۔
رضا گھبرا گئی۔ "کیا ہوا؟"
عارض نے اس کا ہاتھ تھاما۔
"100 سال میں نے اندھیرے میں گزارے۔
تم نے آ کر میری دنیا میں روشنی بھر دی"
"رضا... کیا تم میری زندگی کا حصہ بنو گی؟
کیا تم مجھ سے شادی کرو گی؟"
رضا کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
اسے یقین نہیں آ رہا تھا۔
"ہاں عارض۔ ہاں" رضا نے کہا۔
عارض نے خوشی سے اسے گلے لگا لیا۔
محل کی دیواریں بھی جیسے مسکرا دیں۔
لیکن دور سے کسی کے ہنسنے کی آواز آئی...
کمینٹ میں انپی رائے پیش فرمائیں
To be continued...