7واں دن۔ آخری دن۔
آسمان نے وارننگ دے دی تھی: "ارحم۔ آج کے بعد تمہاری روشنی ختم"
"اس کے بعد تمہارا کوئی وجود نہیں رہے گا"
ارحم نے سر جھکا لیا۔ "جی"
شام کو مہنور یونیورسٹی سے واپس آ رہی تھی۔
تیز رفتار گاڑی۔ بریک فیل۔ سیدھا اس کی طرف۔
مہنور نے آنکھیں بند کر لیں۔ "اماں..."
اسی لمحے سب سفید ہو گیا۔
ارحم۔ اس بار دوڑ کر نہیں آیا۔ وہ اڑ کر آیا۔
اس کے پر آدھے سرمئی، آدھے نور تھے۔ روشنی تیزی سے ختم ہو رہی تھی۔
اس نے سارا زور لگا کر گاڑی کا رخ موڑ دیا۔
گاڑی دیوار سے ٹکرا گئی۔ مہنور بچ گئی۔
پر ارحم... وہ پیچھے گر گیا۔
اس کے پر جل کر راکھ ہونے لگے۔ درد سے وہ زمین پر گر پڑا۔
مہنور کانپتے ہوئے اس کے پاس آئی۔
"آپ؟ آپ کون ہیں؟ آپ زخمی ہیں؟"
ارحم نے مشکل سے آنکھیں کھولیں۔
پہلی بار 180 راتوں بعد... اس نے قانون توڑا۔
اس نے مہنور کا ہاتھ نہیں پکڑا۔ بس ہوا میں سرگوشی کی۔
وہ آواز سیدھا مہنور کے دل میں اتری:
"میں... میں ارحم ہوں"
"آسمان کا فرشتہ تھا۔ تمہارا محافظ"
"180 راتیں تمہارے سرہانے گزاریں"
"تمہارے بخار پر پانی بنا، تمہارے آنسو پر ہوا بنا"
"اور ہاں..."
اس کی آواز بکھرنے لگی:
"تم سے محبت کر بیٹھا تھا مہنور"
"معاف کر دینا۔ فرشتوں کو محبت کی اجازت نہیں تھی"
مہنور کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
"رکو! کہاں جا رہے ہو؟ اپنا نام تو بتاؤ!"
پر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
ارحم کی باڈی روشنی کے ذروں میں بدلنے لگی۔
ہوا میں بکھر گیا۔
صرف ایک سفید پر کا ٹکڑا زمین پر رہ گیا۔
مہنور نے وہ پر اٹھا لیا اور سینے سے لگا لیا۔
رات بھر روتی رہی۔ "واپس آ جاؤ فرشتے... ایک بار"
آسمان خاموش تھا۔
To Be Continued... 💔6 مہینے گزر گئے۔
مہنور روز چھت پر جاتی۔ ہاتھ میں وہ سفید پر کا ٹکڑا۔
"واپس آ جاؤ فرشتے... ایک بار"
اس نے امید چھوڑ دی تھی۔
---
ایک دن یونیورسٹی کے باہر بارش ہو رہی تھی۔
مہنور کا پاؤں پھسلا اور وہ گرنے والی تھی...
کسی نے پیچھے سے پکڑ لیا۔
" سنبھل کر"
آواز... وہی آواز تھی۔
مہنور نے پلٹ کر دیکھا۔
لمبا قد۔ سفید کرتا۔ گیلی آنکھیں۔ چہرہ نیا... پر آنکھیں وہی تھیں۔
لڑکا: "میں... ارحم۔ آپ ٹھیک ہیں؟"
مہنور کا دل رک گیا۔ "ارحم؟"
ارحم نے سر کھجلایا اور مسکرایا "ہاں۔ عجیب بات ہے...
آپ کو دیکھ کر لگتا ہے میں آپ کو صدیوں سے جانتا ہوں"
مہنور کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے اپنے پرس سے وہ سفید پر کا ٹکڑا نکالا۔
"یہ... یہ پہچانتے ہو؟"
ارحم نے پر دیکھا۔ ایک پل کے لیے اس کی آنکھوں میں روشنی جھلکی۔
سر میں درد ہوا۔ کچھ یاد آیا... کچھ دھندلا سا۔
بارش۔ ایک لڑکی۔ "محفوظ رہنا چاہیے"
اس نے سر جھٹکا۔ "نہیں... مطلب ہاں... پتہ نہیں"
مہنور ہنس دی۔ روتے ہوئے ہنس دی۔
" کوئی بات نہیں۔ فرشتے یاد نہیں رکھتے۔ بس نبھاتے ہیں"
اس دن کے بعد ارحم اور مہنور دوست بن گئے۔
ارحم کو کچھ یاد نہیں تھا۔ نہ آسمان، نہ قانون، نہ 180 راتیں۔
پر ہر رات جب مہنور سوتی... ارحم بغیر کہے اس کے گھر کے باہر چکر لگاتا۔
کیوں؟ اسے خود نہیں پتہ تھا۔
شاید سایہ بدل گیا تھا۔
پر فرشتہ اب بھی محبت کرتا تھا 💔
**THE END**
---
آخری لائن:
"محبت کے لیے پر ضروری نہیں ہوتے۔
کبھی کبھی انسان بن کر ساتھ رہنا ہی سب سے بڑی عبادت ہوتی ہے"