اگلی رات۔ 11:30 بجے۔
مہنور یونیورسٹی کی لائبریری سے لیٹ نکلی تھی۔
موبائل کی بیٹری ڈیڈ۔ گلیاں سنسان۔
پیچھے سے 2 قدموں کی آواز آ رہی تھی۔
مہنور نے رفتار بڑھا دی۔ دل زور سے دھڑک رہا تھا۔
"یا اللہ کوئی مدد کر دے"
اسی وقت ایک چھت پر کھڑا ارحم تڑپ گیا۔
اس کے سفید پر بےچینی سے پھڑپھڑا رہے تھے۔
آسمان سے آواز آئی: "ارحم۔ مداخلت مت کرنا۔ یہ اس کا امتحان ہے"
ارحم نے آنکھیں بند کر لیں۔ "جی حکم"
پر جب ایک لڑکے نے آگے بڑھ کر مہنور کا دوپٹہ کھینچا...
"چھوڑو مجھے!" مہنور چیخی اور گر پڑی۔
بس۔ ارحم کا صبر ٹوٹ گیا۔
ایک سفید روشنی کا جھماکا ہوا۔
ہوا اتنی تیز چلی کہ لڑکے زمین پر گر گئے۔
ارحم مہنور اور ان کے درمیان کھڑا تھا۔
چہرے پر غصہ۔ آنکھوں میں آسمان جتنی گہرائی۔
مہنور نے کانپتے ہوئے سر اٹھا کر دیکھا۔
سامنے ایک مرد کھڑا تھا۔ اتنا حسین کہ لفظ کم تھے۔
پر اس کے پیچھے... ہلکے سفید پر تھے۔
"ت...تم کون ہو؟" مہنور کی آواز کانپ گئی۔
ارحم نے ایک نظر اسے دیکھا۔ دل نے کہا "بول دو"
قانون نے کہا "خاموش رہو"
وہ صرف اتنا بولا۔ دھیمی آواز میں:
"ڈرو مت"
پھر پلٹا۔ اور ہوا میں تحلیل ہو گیا۔
لڑکے بھاگ گئے۔ مہنور وہیں بیٹھی رہ گئی۔
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا... یہ خواب تھا یا حقیقت؟
---
ادھر آسمان پر۔
ارحم گھٹنوں کے بل گرا ہوا تھا۔
اس کے ایک پر کا رنگ سفید سے سرمئی ہو رہا تھا۔
سخت آواز آئی: "ارحم بن نور۔ تم نے آسمانی قانون توڑا"
"انسان کے معاملے میں مداخلت کی سزا موت ہے"
ارحم نے سر اٹھایا۔ آنکھوں میں آنسو نہیں تھے۔
صرف سکون تھا۔
اس نے کہا: "سزا قبول ہے"
"بس ایک گزارش ہے... جب تک وہ محفوظ نہیں ہو جاتی، مجھے رہنے دیں"
خاموشی چھا گئی۔
دور کہیں مہنور نے چھت پر دیکھ کر سرگوشی کی:
"تھینکس... جو بھی تھے آپ"
ارحم نے آنکھیں بند کر لیں۔
پہلی بار سزا میٹھی لگ رہی تھی 💔
To Be Continued...