بارش ہو رہی تھی۔
رات کے 2 بجے۔
مہنور کو تیز بخار تھا۔ ماں باپ گاؤں گئے ہوئے تھے۔
گھر میں وہ اکیلی تھی۔ کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے پانی کا گلاس اٹھانا چاہا... گلاس گر کر ٹوٹ گیا۔
"یا اللہ" وہ بستر پر لیٹ کر سسکی۔
اسی وقت کمرے کے کونے میں ہوا کا جھونکا آیا۔
بتی خود بخود مدھم ہو گئی۔
سفید دھند چھائی۔
اور اس دھند سے ایک سایہ نکلا۔
لمبا قد۔ سفید لباس۔ پیٹھ پر روشنی والے پر۔ چہرہ... نور سے ڈھکا ہوا۔
وہ فرشتہ تھا۔ نام تھا "ارحم"۔
اسے حکم ملا تھا: "زمین پر جا۔ مہنور کی حفاظت کر"
"یاد رکھو۔ نہ چھونا ہے، نہ بولنا ہے"
ارحم مہنور کے قریب آیا۔ اس کا ماتھا آگ کی طرح تپ رہا تھا۔
ارحم کا دل چاہا اس کا ماتھا چھو لے... پر ہاتھ ہوا میں رک گیا۔
"نہیں" وہ سرگوشی میں بولا "قانون"
اس نے صرف سانس لی۔ ایک ٹھنڈی پھونک مہنور کے ماتھے پر ماری۔
10 منٹ میں بخار اترنے لگا۔
مہنور نے نیند میں کروٹ لی اور سرگوشی کی "تھینکس... فرشتے"
ارحم کے پر کانپ گئے۔
پہلی بار کسی انسان نے اسے "فرشتہ" کہا تھا۔
وہ کھڑکی کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔ باہر بارش۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور دل میں کہا:
"میں حفاظت کروں گا۔ بس حفاظت"
اسے کیا پتہ تھا...
یہ "بس حفاظت" 180 راتوں میں "محبت" بن جائے گی 💔
To Be Continued...