آمنہ کو تیز بخار چڑھ گیا۔ ارمان کا خون اس کے جسم میں آگ لگا رہا تھا۔
آدھی رات کو سائرہ چپکے سے کمرے میں آئی۔ ہاتھ میں زہر کا پیالہ۔
"پی لو۔ تکلیف ختم ہو جائے گی"
"کیونکہ وہ میرا تھا... تم نے چھین لیا"
آمنہ نے کمزور آواز میں کہا "محبت چھینی نہیں جاتی سائرہ"
اچانک دروازہ ٹوٹا۔ ارمان اندر آیا۔ اس نے پیالہ گرا دیا۔
"دور رہو اس سے!"
ارمان نے پھر اپنی کلائی کاٹی اور اپنا سارا خون آمنہ کو پلا دیا۔
"اب ہم الگ نہیں ہو سکتے۔ میرا خون، تمہارا خون۔ ایک جان"
آمنہ کی سانس بحال ہوئی۔ اس نے ارمان کا ہاتھ پکڑ لیا۔
To Be Continued...