دروازے کے باہر کھڑی لڑکی کی آنکھیں لال تھیں۔ لمبے کالے بال۔ گلے میں بھیڑیے کے دانتوں کا ہار۔
"سائرہ..." ارمان نے دانت پیستے ہوئے کہا
سائرہ ہنسی "واہ ارمان۔ انسانوں کے ساتھ رہنے لگے؟ قبیلے کا قانون بھول گئے؟"
اس نے آمنہ کا گریبان پکڑ لیا "یہ ہے وہ منحوس؟"
ارمان نے سائرہ کا ہاتھ جھٹک دیا "مت چھونا اسے!"
سائرہ چیخی "3 رات بعد پورے چاند کی رات ہے۔ قبیلے کے سامنے فیصلہ ہوگا۔ یا تو تم آمنہ کو مار دو... یا قبیلہ تم دونوں کو مار دے گا"
ارمان نے آمنہ کا چہرہ ہاتھوں میں لیا "3 رات بعد... میں تم سے نکاح کروں گا۔ چاہے پوری دنیا خلاف ہو جائے"
To Be Continued...