ارمان کی پیلی آنکھیں آمنہ پر جمی ہوئیں تھیں۔
اس کے دانتوں سے خون ٹپک رہا تھا۔
آمنہ نے آنکھیں بند کر لیں "اللہ..."
اچانک ارمان رک گیا۔
اس نے اپنا سر جھٹکا۔ جیسے اندر کوئی جنگ لڑ رہا ہو۔
"آمنہ... بھاگو" ارمان کی آواز بھیڑیے جیسی بھاری تھی
لیکن آمنہ بھاگی نہیں۔ وہ آگے بڑھی۔
کانپتے ہاتھوں سے اس نے ارمان کے زخمی چہرے کو چھوا۔
"آپ نے میری جان بچائی تھی ارمان۔ اب میری باری ہے"
ارمان نے دھاڑ مار کر آمنہ کا ہاتھ چاٹ لیا۔
اس کی آنکھوں میں پہچان واپس آئی۔
دھیرے دھیرے ارمان کا جسم سکڑنے لگا۔
بال غائب، ناخن غائب۔ وہ پھر سے انسان بن گیا۔
لیکن ننگا اور زخمی۔
آمنہ نے جلدی سے اپنی چادر اس پر ڈال دی۔
ارمان نے آمنہ کا ہاتھ تھام لیا۔
"تم پاگل ہو؟ میں تمہیں مار سکتا تھا"
آمنہ مسکرائی "پھر کیوں نہیں مارا؟"
ارمان نے آنکھیں بند کر لیں۔
"کیونکہ... پہلی بار کسی نے میری جان بچائی تھی۔
بغیر ڈرے۔ بغیر مطلب کے"
باہر فجر کی اذان ہوئی۔ چاند ڈوب گیا۔
ارمان نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔
"تمہیں جانا ہوگا آمنہ۔ میرا قبیلہ تمہیں زندہ نہیں چھوڑے گا"
آمنہ نے ضد کی "میں نہیں جاؤں گی۔ آپ کے بغیر نہیں"
ارمان غصے سے کھڑا ہوا "ضد مت کرو!"
اس کے جسم سے ابھی بھی بھیڑیے کی بو آ رہی تھی۔
اچانک دروازے پر پھر دستک ہوئی۔
لیکن یہ دستک انسان کی نہیں تھی۔
باہر سے آواز آئی: "ارمان۔ اپنی دلہن کو باہر بھیجو۔
یا ہم اندر آ کر اس کا خون پیئیں گے"
ارمان کا چہرہ سفید پڑ گیا۔
"یہ میری منگیتر ہے۔ قبیلے کی بھیڑیا لڑکی... سائرہ"
آمنہ کا دل بیٹھ گیا۔
To Be Continued...
---
اگلا Chapter: "قبیلے کی دشمن"
⭐ Vote کریں + Comment کریں: آمنہ کیا کرے؟ ❤️