ارمان کے لفظ سن کر آمنہ کا خون جم گیا۔
"تمہاری جان... میری ہے؟"
ارمان نے گہرا سانس لیا۔ اس کی آنکھیں رات جیسی کالی تھیں۔
باہر آسمان پر پورا چاند نکلا ہوا تھا۔ چودھویں کا چاند۔
اچانک ارمان کا جسم کانپنے لگا۔ اس کی رگیں نیلی ہو گئیں۔
اس کے ہاتھوں سے ناخن نکل آئے۔
ارمان چیخا "آمنہ... دروازہ بند کر دو... ابھی!"
آمنہ ڈر کر پیچھے ہٹی "آپ کو کیا ہو رہا ہے؟"
"میں... میں خود پر قابو نہیں رکھ پاؤں گا" ارمان زمین پر بیٹھ گیا
"پورے چاند کی رات... میں بھیڑیا بن جاتا ہوں"
آمنہ نے کانپتے ہاتھوں سے دروازہ بند کیا۔
باہر سے بھیڑیوں کے چلانے کی آواز تیز ہو گئی۔
ارمان کی ہڈیاں چٹخنے لگیں۔ اس کا چہرہ بدلنے لگا۔
بال نکل آئے، آنکھیں پیلی ہو گئیں۔
"بھاگ جاؤ آمنہ!" ارمان چیخا "مجھ سے دور چلی جاؤ!"
لیکن آمنہ وہیں کھڑی رہی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
"نہیں... آپ میرے مہمان ہیں"
دھڑام!
کسی نے باہر سے دروازہ توڑ دیا۔
3 کالے بھیڑیے اندر گھس آئے۔ ان کی آنکھیں خون کی طرح لال تھیں۔
ان کے گلے میں ہڈیوں کے ہار تھے۔
سب سے آگے والا بھیڑیا گرجا "ارمان... تم نے قانون توڑا"
"انسان کو بچایا۔ اب سزا بھگتو"
ارمان آدھا انسان آدھا بھیڑیا بن چکا تھا۔
اس نے آمنہ کو پیچھے دھکیلا۔
"انہیں مت چھونا" ارمان دھاڑا
لڑائی شروع ہو گئی۔ پنجے، خون، چیخیں۔
حویلی کی دیواریں ہل گئیں۔
آمنہ نے آنکھیں بند کر لیں۔
جب آنکھ کھولی تو...
فرش پر خون تھا۔ 3 بھیڑیے زخمی پڑے تھے۔
اور ارمان...
ارمان پورے بھیڑیے کی شکل میں آمنہ کے سامنے کھڑا تھا۔
اس کی آنکھیں اب آمنہ کو نہیں پہچان رہی تھیں۔
ارمان آہستہ آہستہ آمنہ کی طرف بڑھا...
اس کی سانسوں سے موت کی بو آ رہی تھی۔
To Be Continued...
---
اگلا Chapter: "میرا بھیڑیا"
⭐ Vote کریں + Comment کریں: ارمان آمنہ کو کاٹے گا یا بچائے گا؟ ❤️