نکاح کے بعد فرحان نمرہ کو اپنے فلیٹ لے آیا۔
چھوٹا سا فلیٹ تھا۔ لیکن صاف ستھرا۔
نمرہ کھڑکی کے پاس کھڑی تھی۔ آنکھوں میں آنسو۔
"پچھتا رہی ہو؟" فرحان نے پیچھے سے پوچھا
نمرہ نے سر ہلایا "نہیں... بس امی یاد آ رہی ہیں"
فرحان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا "میں انہیں منا لوں گا۔ وعدہ"
اسی وقت فرحان کا فون بجا۔ اسکرین پر "ابو" کا نام۔
فرحان نے کال اٹھائی "جی ابو"
"نکاح کر لیا؟ شاباش بیٹا۔ لڑکی کے باپ کا فون آیا تھا۔
گالیاں دے رہا تھا" ابو ہنس رہے تھے
فرحان نے سکھ کا سانس لیا۔ کم از کم اس کے گھر والے تو ساتھ تھے۔
---
ادھر نمرہ کے گھر۔
امی 2 دن سے کھانا نہیں کھا رہی تھیں۔ ابو نے نمرہ کا نمبر بلاک کر دیا تھا۔
رشتے والوں کا فون آیا "بہن یہ کیا سنا؟ لڑکی بھاگ گئی؟"
امی نے فون بند کر دیا اور رونے لگیں۔
نمرہ کی چھوٹی بہن سارہ دروازے پر کھڑی تھی "امی... آپا سے بات کر لیں؟"
تھپڑ پڑا "نام مت لو اس کا"
---
رات کو فرحان نے کہا "چلو نمرہ۔ تمہارے گھر چلتے ہیں۔ بات کرتے ہیں"
نمرہ ڈر گئی "نہیں... ابو ماریں گے"
"میں ہوں نا" فرحان نے اس کا ہاتھ پکڑا
وہ دونوں نمرہ کے گھر پہنچے۔ ڈور بیل بجائی۔
دروازہ ابو نے کھولا۔ فرحان کو دیکھتے ہی غصے سے لال ہو گئے۔
"نکل جاؤ یہاں سے!" ابو چلائے
امی بھی آ گئیں۔ نمرہ کو دیکھ کر سینے سے لگا لیا اور پھر دھکا دے دیا
"تم مر گئی ہو میرے لیے" امی رو کر بولیں
نمرہ گھٹنوں کے بل گر گئی "امی معاف کر دیں..."
فرحان نے نمرہ کو اٹھایا "آنٹی ایک موقع دیں۔ میں نمرہ کو خوش رکھوں گا"
ابو نے دروازہ بند کر دیا۔
بند دروازے کے پیچھے سے آواز آئی "آئندہ نظر مت آنا"
نمرہ سسکیاں لے کر رونے لگی۔
فرحان نے اسے گلے لگا لیا "ہم دونوں ہیں نا۔ بس"
دل ٹوٹ گیا نہ 🥺❤️🥹😍 🥺 😱
میرا بھی دل ٹوٹ گیا
گھر والوں نے منہ پھیر لیا
آپ لوگ کمنٹ میں لکھیں
امی مان جائیں گی
To be continued...