دروازے پر زوردار دستک ہو رہی تھی۔
"پولیس! دروازہ کھولو ورنہ توڑ دیں گے!"
نمرہ کا دل ڈوب گیا۔ مولوی صاحب کا ہاتھ کانپ گیا۔
فرحان نے نمرہ کا ہاتھ تھاما "گھبراؤ مت۔ میں ہوں"
اس نے دروازہ کھولا۔ 2 پولیس والے اور نمرہ کے ابو کھڑے تھے۔
"یہ رہی میری بیٹی!" ابو چلا کر بولے
ایک پولیس والے نے آگے بڑھ کر کہا "لڑکی کی عمر کیا ہے؟"
"18 سال" فرحان نے فوراً جواب دیا
"آئی ڈی کارڈ دکھاؤ"
نمرہ نے اپنا بیگ کھولا اور شناختی کارڈ نکال کر دیا۔
پولیس والے نے کارڈ دیکھا پھر ابو کی طرف دیکھا "سر یہ بالغ ہے۔
اگر یہ اپنی مرضی سے گئی ہے تو ہم کچھ نہیں کر سکتے"
ابو کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا "یہ جھوٹ بول رہی ہے!"
نمرہ نے ہمت کر کے کہا "ابو... میں اپنی مرضی سے آئی ہوں۔
اور میں... میں نے نکاح کر لیا ہے"
سب ساکت ہو گئے۔
مولوی صاحب نے نکاح نامہ آگے بڑھا دیا "جی نکاح ہو چکا ہے۔
دونوں کی رضا سے"
ابو نے سر پکڑ لیا۔ فرحان کی طرف بڑھے "تمہیں چھوڑوں گا نہیں"
فرحان آگے آیا "مار لیں۔ لیکن نمرہ اب میری بیوی ہے"
نمرہ نے فرحان کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔
پولیس والے نے کہا "چلیں سر۔ یہ بالغ ہیں۔ ہم زبردستی نہیں کر سکتے"
ابو ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ واپس چلے گئے۔
کمرے میں صرف نمرہ اور فرحان رہ گئے۔
فرحان نے نمرہ کے ماتھے پر بوسہ دیا "اب تم میری ہو۔ ہمیشہ کے لیے"
نمرہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ خوشی کے یا ڈر کے... پتہ نہیں
نکاح ہو گیا ❤️❤️ اب کیا گھر والے مانیں گے
کمنٹ میں لکھ دیں فرحان جیت گیا
میرا بھی دل زور سے دھرک رہا ہے 😃😂
آگے جاننے کیلئے کمنٹ کریں
To be continued...