ڈرائنگ روم میں سناٹا تھا۔
ابو چلا رہے تھے "نکل جاؤ ہمارے گھر سے"
فرحان نے ہاتھ باندھ لیے "انکل ایک بار نمرہ سے پوچھ لیں۔
وہ کیا چاہتی ہے"
نمرہ روتے ہوئے بولی "امی پلیز..."
امی نے اس کا ہاتھ سختی سے پکڑا "اندر چلو"
نمرہ کو کمرے میں بند کر دیا گیا۔
رات 12 بجے۔ نمرہ کی کھڑکی پر آواز آئی۔
فرحان تھا۔ "نمرہ... فیصلہ کرو"
نمرہ نے آنسو پونچھے "میں نہیں رہ سکتی ایسے"
فرحان نے نیچے ہاتھ بڑھایا "پھر چلو میرے ساتھ"
نمرہ نے ایک نظر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ امی ابو سو رہے تھے۔
اس نے ہمت کر کے فرحان کا ہاتھ پکڑ لیا۔
دونوں اندھیرے میں نکل گئے۔
---
صبح گھر میں قیامت تھی۔
امی بے ہوش ہو گئیں۔ ابو نے پولیس کو فون کر دیا۔
ادھر فرحان نمرہ کو اپنے دوست کے گھر لے گیا۔
"اب کیا کریں گے؟" نمرہ نے کانپتی آواز میں پوچھا
فرحان نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیا "نکاح۔ آج۔ ابھی۔
اس کے بعد کوئی ہمیں الگ نہیں کر سکتا"
نمرہ نے سر ہلا دیا۔
مولوی صاحب نے نکاح پڑھانا شروع کیا ہی تھا کہ...
دروازے پر زور زور سے دستک ہوئی۔
"پولیس! دروازہ کھولو!"
کیا پولیس آ گئی 😭 کیا دو نوں پکڑے جانے گئے یا نکاح ہو جائے گا ❤️❤️ کمنٹ میں لکھ دیں نکاح ہو جائے اور سٹار ووٹ ڈالنا مت بھولیں
To be continued...