نمرہ نے فوراً کال کاٹ دی۔
"کس کی کال تھی؟" فرحان نے پوچھا
"امی کی... 3 مس کالز ہیں" نمرہ کا چہرہ سفید ہو گیا
فرحان نے اس کا ہاتھ پکڑا "گھبراؤ نہیں۔ میں ہوں نا"
نمرہ نے ہاتھ چھڑایا "پاگل ہو؟ چھوڑو"
وہ جلدی سے کیفے سے نکلی اور رکشے میں بیٹھ گئی۔
گھر پہنچتے ہی امی ڈرائنگ روم میں کھڑی تھیں۔ ہاتھ میں نمرہ کا فون۔
"کہاں تھی؟" امی کی آواز سخت تھی
"وہ... دوست کے گھر..." نمرہ نے سر جھکا لیا
امی نے فون اس کے سامنے کیا۔ اسکرین پر فرحان کا نمبر تھا۔
اور ساتھ ایک میسج: "شام 5 بجے کیفے۔ انتظار کروں گا"
نمرہ کی ٹانگیں کانپ گئیں۔
"یہ کون ہے نمرہ؟" ابو بھی آ گئے تھے
نمرہ رونے لگی "امی میں... میں بس..."
تھپڑ کی آواز گونجی۔
"شرم کرو۔ شادی طے ہو چکی ہے تمہاری۔ اور تم..." امی کی آنکھوں میں آنسو تھے
اسی وقت ڈور بیل بجی۔
دروازے پر فرحان کھڑا تھا۔ چہرے پر کوئی خوف نہیں۔
"انکل آنٹی سلام۔ مجھے نمرہ سے بات کرنی ہے" فرحان بولا
ابو کا پارہ آسمان پر "نکل جاؤ یہاں سے"
فرحان نے نمرہ کی طرف دیکھا "میں آخری بار پوچھ رہا ہوں۔
کیا تم میرے ساتھ چلو گی؟"
نمرہ امی اور فرحان کے بیچ میں کھڑی تھی۔ دل پھٹ رہا تھا۔
نمرہ کس کا ساتھ دے گی فرحان کا یا امی کا کمنٹ میں ضرور بتائیں
To be continued..