فرحان کے جانے کے بعد نمرہ کا دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا۔
رات کو کھانے پر امی نے اچانک پوچھا "وہ لڑکا کون تھا جو آیا تھا؟"
نمرہ کا لقمہ گلے میں اٹک گیا "ک... کون سا لڑکا؟"
"وہی۔ لمبا سا۔ کالے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ کہہ رہا تھا کلاس فیلو ہے"
نمرہ نے پانی کا گھونٹ بھرا "جی... یونی کا پروجیکٹ تھا۔ فارم دینے آیا تھا"
ابو نے سر ہلایا "اچھا لڑکا لگتا ہے۔ تمیز سے بات کر رہا تھا"
امی نے نمرہ کو گھورا "نمرہ... تمہاری شادی طے ہو چکی ہے۔
کسی اور لڑکے سے میل جول اچھا نہیں لگتا"
نمرہ نے نظریں جھکا لیں "جی امی"
---
اگلے دن یونیورسٹی۔
آج نمرہ جلدی آ گئی تھی۔ فرسٹ بینچ پر بیٹھ کر انتظار کر رہی تھی۔
فرحان آیا۔ آج وہ بالکل خاموش تھا۔ نہ چھیڑا، نہ تنگ کیا۔
لیکچر ختم ہونے پر فرحان نے ایک پرچی نمرہ کی طرف پھینکی۔
پرچی پر لکھا تھا: "آج شام 5 بجے۔ کیفے میں۔ آنا ضروری ہے۔
نہیں تو میں تمہارے گھر آ جاؤں گا"
نمرہ نے پرچی مٹھی میں بھینچ لی۔
شام کو وہ گھر سے بہانہ بنا کر نکلی "دوست سے نوٹس لینے جا رہی ہوں"
کیفے میں فرحان پہلے سے بیٹھا تھا۔
"دیر کر دی" فرحان بولا
"کیا پلان ہے تمہارا؟" نمرہ نے سیدھا پوچھا
فرحان نے چائے کا کپ آگے بڑھایا "پلان یہ ہے کہ میں تمہاری شادی نہیں ہونے دوں گا۔
چاہے کچھ بھی ہو جائے"
نمرہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے "لیکن کیوں؟ ہم تو دشمن ہیں نا؟"
فرحان نے گہری سانس لی "پتہ نہیں... بس نہیں ہونے دوں گا"
اسی وقت نمرہ کا فون بجا۔ اسکرین پر "امی" کا نام تھا۔
کیا نمرہ کی امی کو سب پتا چل جائے گا کیا نمرہ بچ جائے گی یا پکڑی جائے گی کمنٹ میں ضرور بتائیں
To be continued...