رات کے 2 بجے تھے۔
فرحان چھت پر بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔ آج پہلی بار اسے نیند نہیں آ رہی تھی۔
"نمرہ کی شادی... اگلے مہینے..."
اس نے مٹھی بند کر لی۔
اس کا دوست علی فون پر بولا "یار چھوڑ دے۔ تیرے ابو کا بزنس پارٹنر ہے وہ لڑکا۔
جھگڑا کیا تو مسئلہ ہو جائے گا"
فرحان ہنسا "مسئلہ؟ مسئلہ تو تب ہوگا جب میں کچھ نہ کروں"
اگلی صبح یونیورسٹی۔
نمرہ کلاس میں نہیں آئی تھی۔ فرسٹ بینچ خالی تھا۔
فرحان نے ٹیچر سے پوچھا "سر نمرہ کہاں ہے؟"
"اس کی شادی ہے نا۔ چھٹی پر ہے" ٹیچر نے جواب دیا۔
فرحان کا چہرہ سخت ہو گیا۔ وہ کلاس سے اٹھا اور سیدھا پرنسپل آفس گیا۔
شام کو نمرہ کے گھر کا ڈور بیل بجا۔
دروازے پر فرحان کھڑا تھا۔ ہاتھ میں یونی کا ایڈمیشن فارم۔
"انکل سلام۔ میں نمرہ کا کلاس فیلو ہوں۔ وہ ایک ضروری پروجیکٹ کی وجہ سے
یونی نہیں آ سکی۔ اس لیے میں فارم دینے آیا ہوں"
ابو نے اسے اندر بلا لیا۔
نمرہ سیڑھیوں سے نیچے آئی تو فرحان کو دیکھ کر ساکت رہ گئی۔
فرحان نے آنکھوں سے اشارہ کیا اور آہستہ سے بولا "میں شادی نہیں ہونے دوں گا"
نمرہ کا دل زور سے دھڑکا۔
فرحان کا کیا پلان ہے کیا اس کے ابو مان جائیں گے کمنٹ میں ضرور بتائیں اور اپنا ووٹ دینا مت بھولیں
To be continued...