شام کو نمرہ گھر آئی تو ڈرائنگ روم میں مہمان بیٹھے تھے۔
امی نے اسے دیکھتے ہی کہا "نمرہ بیٹا، آؤ۔ یہ چاچا راشد ہیں"
نمرہ نے سر جھکا کر سلام کیا۔ دل میں عجیب سی گھبراہٹ تھی۔
چائے کے بعد ابو بولے "بیٹا، ہم نے تمہارا رشتہ طے کر دیا ہے۔
لڑکا بہت اچھا ہے۔ امریکہ میں جاب کرتا ہے۔ اگلے مہینے منگنی ہے"
نمرہ کے ہاتھ سے گلاس چھوٹتے چھوٹتے بچا۔
"ابو... لیکن میری پڑھائی؟"
"پڑھائی شادی کے بعد بھی ہو جائے گی" امی نے بات کاٹ دی۔
نمرہ اپنے کمرے میں آ کر رو پڑی۔
---
اگلے دن یونیورسٹی۔
فرحان آج لیٹ نہیں تھا۔ وہ پہلے سے فرسٹ بینچ پر بیٹھا تھا۔
آنکھیں لال تھیں جیسے رات سویا ہی نہ ہو۔
نمرہ آئی اور اپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔ آج کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔
لیکچر کے بیچ میں فرحان نے سرگوشی کی "سنو"
نمرہ نے جواب نہیں دیا۔
فرحان نے زور سے کہا "میں نے پوچھا سنو!"
پوری کلاس نے مڑ کر دیکھا۔
نمرہ غصے سے بولی "کیا ہے؟"
فرحان نے اس کی آنکھوں میں دیکھا "سچ بتاؤ۔ تمہاری شادی ہو رہی ہے کیا؟"
نمرہ کا دل ڈوب گیا۔ "تمہیں... تمہیں کیسے پتہ؟"
فرحان ہنسا۔ پر اس ہنسی میں درد تھا۔ "شہر چھوٹا ہے مس ٹاپر۔
خبریں جلدی پھیلتی ہیں"
وہ اٹھا اور کلاس سے باہر چلا گیا۔
نمرہ وہیں بیٹھی رہ گئی۔ پہلی بار اسے فرحان کے جانے سے فرق پڑا تھا۔
To be continued...