یونیورسٹی کے گیٹ پر آج بہت رش تھا۔ نئے سٹوڈنٹس کا پہلا دن۔
نمرہ نے گھڑی دیکھی۔ 8:55۔ کلاس 9 بجے شروع ہوتی ہے۔
وہ بیگ سنبھال کر تیزی سے فرسٹ فلور پر بھاگی۔
کلاس میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر فرسٹ بینچ پر گئی۔ خالی تھی۔
"شکر ہے" وہ مسکرا کر بیٹھ گئی۔ کتاب، نوٹ بک، پین سب ایک لائن میں رکھے۔
"میں ہوں نمرہ خان۔ 3 سال سے یونی کی ٹاپر۔ اور آج بھی رہوں گی"
اس نے خود سے وعدہ کیا۔
ٹھیک 9 بجے دروازہ دھڑام سے کھلا۔
سب نے مڑ کر دیکھا۔
اندر فرحان آیا۔ سفید شرٹ کے 2 بٹن کھلے، بالوں میں ہاتھ پھیرا ہوا،
اور ایک ہاتھ میں ٹھنڈی کافی۔
وہ پورے ہال کو نظرانداز کر کے سیدھا نمرہ کے پاس آیا۔
اس کی بغل والی سیٹ کھینچی اور دھم سے بیٹھ گیا۔
نمرہ نے گھور کر دیکھا "ایکسکیوز می؟ یہ میری سیٹ ہے"
فرحان نے کافی کا گھونٹ لیا "لکھا تو نہیں ہے کہیں۔ فرسٹ کم فرسٹ سِرو"
"تمہیں شرم نہیں آتی؟ یہ پڑھنے والوں کی جگہ ہے"
فرحان نے قریب ہو کر سرگوشی کی "تو میں بھی تو پڑھوں گا نا...
تمہارے چہرے کا غصہ"
پیچھے بیٹھے لڑکے ہنس پڑے۔
نمرہ کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا۔ وہ کھڑی ہوئی اور بیگ اٹھایا۔
"ٹھیک ہے۔ آج کے بعد یہ تمہاری سیٹ۔ اور میں... تمہاری سب سے بڑی دشمن"
فرحان نے کندھے اچکائے "ڈیل۔ ویسے دشمنی میں مزہ آتا ہے مس ٹاپر"
ٹیچر کلاس میں آ گئے۔ لیکچر شروع ہوا۔
نمرہ نے ایک لفظ بھی نہیں سنا۔ اس کے دماغ میں بس ایک بات تھی۔
"اس فرحان کو میں سبق سکھا کر رہوں گی"
اسے کیا پتہ تھا...
جس سے آج وہ سب سے زیادہ نفرت کر رہی ہے
کل اسی کے نام پر روئے گی۔
کمینٹ میں بتائیں آپ کس کی سائیڈ پر ہیں نمرہ یا فرحان
To be continued...