وہ ہنسی کی آواز محل میں گونج رہی تھی۔
"کون ہے؟" عارض فوراً کھڑا ہو گیا۔
سائے سے ایک عورت نکلی۔ لمبے کالے بال، لال لباس۔
"زین کی بہن... سایہ" عارض غرایا۔
سایہ ہنسی۔ "بھائی کے مرنے کا بدلہ لینا ہے"
اس نے ہاتھ ہوا میں گھمایا۔ پورا محل کالے دھوئیں سے بھر گیا۔
"تم دونوں کی شادی نہیں ہو گی" سایہ چیخی۔
"میں تمہیں ہمیشہ کے لیے جدا کر دوں گی"
اس نے رضا کی طرف آگ کا گولا پھینکا۔
"رضا!" عارض بیچ میں آ گیا۔
گولا اس کے سینے پر لگا۔
عارض گر پڑا۔
"نہیں!" رضا چیخی اور عارض کا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔
سایہ قہقہہ لگا رہی تھی۔
"اب روتی رہو"
رضا نے آنسو صاف کیے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں... آگ تھی۔
"میرے عارض کو کچھ نہیں ہو گا" رضا کھڑی ہوئی۔
اس کے ہاتھ میں وہی خنجر تھا۔
"ختم کرو اسے" رضا نے خنجر اٹھایا...
To be continued...