رات تھی۔ چاند کی روشنی کھڑکی سے اندر آ رہی تھی۔
عارض اور رضا محل کے باغ میں بیٹھے تھے۔ 100 سال بعد پہلی بار۔
"نور میری منگیتر تھی" عارض نے دھیمی آواز میں کہا۔
"ہماری شادی ہونے والی تھی"
رضا خاموشی سے سن رہی تھی۔
"زین نور سے محبت کرتا تھا۔ جب اسے انکار ہوا تو وہ پاگل ہو گیا"
عارض کی مٹھیاں بند ہو گئیں۔ "اس نے نور کو قتل کر دیا۔ اور الزام مجھ پر لگا دیا"
"اور تمہیں تہہ خانے میں قید کر دیا؟"
"ہاں۔ خنجر سے۔ اس نے کہا جب تک کوئی تم سے سچی محبت نہیں کرے گا،
تم آزاد نہیں ہو گے"
عارض نے رضا کی طرف دیکھا۔
"اور تم نے کر دکھایا رضا۔ تم نے مجھے بچایا"
رضا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
"تو کیا... میں نور کی جگہ نہیں لے رہی؟"
عارض نے نرمی سے اس کا آنسو صاف کیا۔
"نہیں۔ تم رضا ہو۔ اور میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ نور کی وجہ سے نہیں"
ہوا میں خوشبو پھیل گئی۔
100 سال کی قید کے بعد پہلی بار عارض آزاد تھا۔
To be continued...