تہہ خانہ لرز رہا تھا۔
عارض کا کندھا زخمی تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں آگ تھی۔
"بس بہت ہو گیا زین" عارض غرایا۔
زین ہنسا۔ "تم کیا کرو گے؟ تم تو قیدی ہو"
"اب نہیں" عارض نے زخمی ہاتھ سے رضا کا ہاتھ پکڑا۔
"خون کا بندھن ٹوٹ چکا ہے۔ اب میں آزاد ہوں"
اچانک پورے تہہ خانے میں روشنی پھیل گئی۔
عارض کے زخم خود ہی ٹھیک ہونے لگے۔
زین گھبرا گیا۔ "یہ... یہ کیسے؟"
"کیونکہ" عارض نے خنجر اٹھایا "محبت سب سے بڑا جادو ہے"
اس نے خنجر زین کی طرف پھینکا۔
زین چیخا اور دیوار سے ٹکرا کر گر پڑا۔
"نہیں... 100 سال کی محنت..." زین دھواں بن کر اڑ گیا۔
خاموشی ہو گئی۔
عارض نے رضا کو گلے لگا لیا۔
"تم نے مجھے آزاد کر دیا رضا"
اوپر سے سورج کی روشنی آ رہی تھی۔
تہہ خانے کا دروازہ خود کھل گیا۔
To be continued...