زین کا خنجر رضا کے بہت قریب سے گزرا اور دیوار میں جا لگا۔
"رضا!" عارض نے اسے پیچھے کھینچا۔
زین پاگلوں کی طرح ہنس رہا تھا۔
"تم دونوں مر جاؤ گے۔ میں 100 سال سے اس لمحے کا انتظار کر رہا تھا"
اس نے دونوں ہاتھ ہوا میں اٹھائے۔
فرش سے کالے دھوئیں کے بادل نکلنے لگے۔
"یہ میرا اصلی روپ ہے" زین چیخا۔
اس کا جسم بڑا ہونے لگا۔ آنکھیں لال، ناخن لمبے۔
عارض زخمی حالت میں آگے آیا۔
"رضا پیچھے رہو۔ یہ میری لڑائی ہے"
"نہیں" رضا نے عارض کا ہاتھ تھاما۔
"ہم ساتھ لڑیں گے"
عارض نے مسکرا کر سر ہلایا۔
اس نے خنجر اٹھایا اور زین پر حملہ کر دیا۔
تہہ خانہ روشنی اور دھوئیں سے بھر گیا۔
چیخوں کی آواز...
اور پھر اچانک سب خاموش...
To be continued...