دھول اور مٹی ہر طرف پھیل گئی تھی۔
رضا نے آنکھیں کھولیں تو عارض اس کے اوپر لیٹا تھا۔
اس نے اپنا جسم ڈھال بنا لیا تھا۔
"تم... ٹھیک ہو؟" رضا نے کانپتی آواز میں پوچھا۔
عارض اٹھا۔ اس کے کپڑوں پر خون اور مٹی لگی تھی۔
"میں ٹھیک ہوں۔ لیکن ہم پھنس گئے ہیں"
تہہ خانے کی چھت کا آدھا حصہ گر چکا تھا۔
اوپر سے روشنی کی ایک کرن آ رہی تھی۔
اچانک سیڑھیوں پر قدموں کی آواز آئی۔
زین ہاتھ میں لالٹین لیے نیچے اترا۔ وہ مسکرا رہا تھا۔
"واہ! کیا ڈرامہ تھا" اس نے تالی بجائی۔
"تم نے یہ سب جان بوجھ کر کیا؟" عارض غرایا۔
زین نے خنجر اٹھا لیا جو فرش پر پڑا تھا۔
"100 سال سے میں تمہاری حفاظت کر رہا تھا عارض۔
تاکہ کوئی تمہیں آزاد نہ کر سکے"
"کیوں؟" رضا چلائی۔
"کیونکہ" زین کی آنکھیں لال ہو گئیں "میں ہی وہ جادوگر ہوں
جس نے تمہیں قید کیا تھا۔ اور اب میں تمہیں دوبارہ قید کروں گا"
اس نے خنجر ہوا میں گھمایا۔
تہ خانے کی دیواریں ہلنے لگیں۔
"رضا بھاگو!" عارض چلایا۔
لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔
زین نے خنجر رضا کی طرف پھینک دیا...
To be continued...