تہہ خانے میں مکمل اندھیرا تھا۔ صرف خنجر کی چاندی چمک رہی تھی۔
"عارض!" رضا نے چیخ کر کہا۔ "دروازہ کھولو"
عارض دیوار سے لگ کر بیٹھ گیا۔ "کوئی فائدہ نہیں۔ یہ دروازہ صرف خون سے کھلے گا"
"کس کا خون؟"
"یا میرا... یا تمہارا"
رضا کے ہاتھ سے خنجر گر گیا۔ "میں... میں نہیں کر سکتی"
اچانک خنجر خود اٹھ کر ہوا میں معلق ہو گیا۔
زین کی ہنسی اوپر سے آئی۔ "فیصلہ کرو عارض۔ 100 سال کا انتظار ختم کرو"
عارض اٹھا اور رضا کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
"میں تمہیں چوٹ نہیں پہنچا سکتا رضا۔ چاہے اس کی قیمت میری قید ہی کیوں نہ ہو"
اس نے خنجر اپنا ہاتھ کاٹنے کے لیے اٹھایا۔
"نہیں!" رضا نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
خنجر لگا اور عارض کی کلائی سے کالا خون نکلنے لگا۔
فرش پر خون کے قطرے گرتے ہی...
دیواروں پر لکھی تحریریں روشن ہو گئیں۔
"خون کا بندھن... ٹوٹ گیا" عارض سرگوشی میں بولا۔
تہہ خانہ لرزنے لگا۔ اوپر سے مٹی گرنے لگی۔
"ہم آزاد ہیں رضا" عارض نے مس