تہہ خانے کے دروازے پر جالے لگے تھے۔ 100 سال سے کوئی یہاں نہیں آیا تھا۔
"تمہیں ڈر لگ رہا ہے؟" عارض نے رضا کا ہاتھ تھاما۔ اس کے ہاتھ برف کی طرح ٹھنڈے تھے۔
"نہیں" رضا نے جھوٹ بولا۔
سیڑھیاں نیچے جاتے ہی ہوا کا جھونکا آیا۔ موم بتی بجھ گئی۔
اندھیرے میں صرف عارض کی سرخ آنکھیں چمک رہی تھیں۔
"وہ رہا" عارض نے دیوار کی طرف اشارہ کیا۔
ایک پرانا صندوق تھا۔ اس پر زنجیریں لگی تھیں۔
عارض نے زنجیر چھوئی تو وہ خود ہی ٹوٹ کر گر گئیں۔
صندوق کے اندر وہی خنجر تھا۔ چاندی کا... اور اس پر خون لگا تھا۔
"یہی خنجر ہے جس سے مجھے قید کیا گیا تھا" عارض کی آواز کانپ رہی تھی۔
اچانک زین کی آواز آئی اوپر سے: "مل گیا نا؟ اب دیر مت کرو"
رضا نے خنجر اٹھایا۔ اس کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔
"عارض... مجھے کیا کرنا ہے؟"
عارض نے آنکھیں بند کر لیں۔ "یا تو مجھے مار دو... یا خود مر جاؤ"
اور اسی وقت تہہ خانے کا دروازہ خود بند ہو گیا۔ دھڑام!
وہ دونوں قید ہو گئے...
To be continued...