موم بتی کی روشنی میں رضا کا چہرہ سفید پڑ چکا تھا۔
"تمہارا مطلب ہے... میں مر جاؤں گی؟" رضا نے لڑکھڑاتی آواز میں پوچھا۔
عارض فوراً اس کے قریب آیا۔ "نہیں۔ میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا"
اس کی ٹھنڈی انگلیوں نے رضا کا گال چھوا۔ "100 سال میں پہلی بار کوئی مجھے اپنا لگا ہے"
رضا نے آنسو روکتے ہوئے کہا: "تو پھر حل کیا ہے؟"
عارض نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ چاند مکمل تھا۔
"حل ایک ہی ہے۔ ہمیں زین کا وہ خنجر ڈھونڈنا ہوگا جس سے مجھے قید کیا گیا تھا۔ وہ تہہ خانے میں ہے"
"تہہ خانہ؟ لیکن دادا نے کہا تھا وہاں کبھی مت جانا"
"کیونکہ وہ جانتے تھے۔ وہ میرے دوست تھے رضا۔ انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے خون کو یہاں نہیں بھیجیں گے"
اچانک سیڑھیوں سے قدموں کی آواز آئی۔
دھپ... دھپ... دھپ...
کوئی اوپر آ رہا تھا۔
عارض کا چہرہ بدل گیا۔ "زین"
دروازہ زور سے کھلا۔ اور وہاں زین کھڑا تھا۔ ہاتھ میں وہی خنجر۔
"3 دن شروع ہو چکے ہیں عارض۔ پہلا دن ختم"
اس نے خنجر رضا کی طرف کیا۔
"یا تو یہ لڑکی مرے گی... یا تم ہمیشہ کے لیے قید رہو گے"
رضا چیخی: "عارض!"
اور کمرے میں اندھیرا چھا گیا...
To be continued...