سایہ کا خنجر عارض کے سینے میں لگنے والا تھا...
لیکن عارض نے ہوا میں ہاتھ گھمایا اور خنجر رک گیا۔
"یہ تم نہیں کر سکتے" عارض دھاڑا۔
سایہ ہنسا۔ آواز دیواروں سے ٹکرائی۔ "میں وہی کروں گا جو 100 سال پہلے کیا تھا"
رضا ڈر کر پیچھے ہٹی۔ "عارض یہ کون ہے؟"
عارض نے رضا کا ہاتھ پکڑا۔ اس کے ہاتھ برف کی طرح ٹھنڈے تھے۔
"یہ میرا بھائی ہے رضا۔ زین۔ جس نے مجھے اس حویلی میں قید کیا تھا"
"کیوں؟"
"کیونکہ میں نے اس کی منگیتر سے محبت کی تھی۔ اور وعدہ کیا تھا کہ کبھی شادی نہیں کروں گا۔ لیکن میں نے وعدہ توڑا"
زین چیخا: "اور اسی لیے تمہیں سزا ملے گی۔ جب تک تمہارا خون کا رشتہ اس حویلی میں نہیں آئے گا، تم آزاد نہیں ہو سکتے"
رضا کی آنکھیں پھٹ گئیں۔ "خون کا رشتہ؟ مطلب... میں؟"
عارض نے سر ہاں میں ہلایا۔ "ہاں رضا۔ تم دادا کی پوتی ہو۔ اور دادا... میرے دوست تھے"
اچانک زین غائب ہو گیا۔ لیکن جانے سے پہلے وہ بولا:
"3 دن۔ 3 دن میں اگر تم نے رضا کو یہاں سے نہیں بھیجا، تو میں اسے بھی اپنے ساتھ لے جاؤں گا"
موم بتی پھر بجھ گئی۔
To be continued...