موم بتی بجھ گئی تھی۔ اندھیرے میں صرف اس کی سانسوں کی آواز تھی۔
رضا نے کانپتے ہاتھوں سے ماچس جلائی۔ روشنی ہوتے ہی وہ پھر سے سامنے تھا۔
"آپ... آپ یہاں کیسے؟" رضا کی آواز لڑکھڑا رہی تھی۔
عارض نے سر جھکا لیا۔ "کیونکہ تم نے مجھے پکارا تھا رضا"
"میں نے؟ کب؟"
"ہر رات۔ جب تم دادا کی کتابیں پڑھ کر روتی تھی۔ جب تم کہتی تھی 'کاش کوئی مجھے سمجھے'۔ میں نے 100 سال سے تمہاری آواز سنی ہے"
رضا پیچھے ہٹی۔ "یہ ناممکن ہے۔ آپ 1926 سے مرے ہوئے ہیں"
عارض کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ "مرا نہیں ہوں۔ قید ہوں۔ اس حویلی میں۔ اس وعدے میں جو میں نے کسی سے کیا تھا"
اچانک کھڑکی کا شیشہ چٹخا۔ باہر سے کسی کے ہنسنے کی آواز آئی۔
عارض فوراً رضا کے سامنے آ گیا۔ "تمہیں یہاں نہیں ہونا چاہیے تھا"
"کیوں؟"
"کیونکہ جو مجھے یہاں قید کر گیا... وہ اب تمہیں بھی لے جائے گا"
بج