بارش کی رات تھی۔ پنڈی بہاؤالدین کی پرانی حویلی کی لائبریری میں صرف ایک موم بتی ٹمٹما رہی تھی۔
رضا نے دوپٹے سے ہاتھ صاف کیے۔ 24 سال کی عمر، آنکھوں میں کتابوں کا نشہ۔ دادا کی وفات کے بعد یہی لائبریری اس کی دنیا بن گئی تھی۔
رات کے 12 بجے۔ گھڑی کی ٹک ٹک کے سوا کوئی آواز نہیں تھی۔
اچانک... کتابیں خود گرنے لگیں۔ دھڑام!
رضا ڈر کر کرسی سے اٹھی: "کون ہے؟"
خاموشی۔
پھر پیچھے سے برف جیسی ٹھنڈی آواز آئی:
"اتنی رات کو تنہا لڑکیوں کو لائبریری میں نہیں ہونا چاہیے"
رضا کی چیخ گلے میں ہی رہ گئی۔
سامنے کھڑا تھا وہ۔ قد لمبا، سفید کرتا پاجامہ، بال کندھوں تک۔ چہرہ ایسا جیسے صدیوں کا غم لیے ہوئے ہو۔ اور آنکھیں... سیاہ، گہری، جن میں 100 سال کا انتظار قید تھا۔
"میں اس حویلی کا ہوں رضا۔ اور تم؟ تم میری 100 سال کی دعا ہو"
باہر بجلی چمکی۔ روشنی میں رضا نے دیکھا... اس کے پاؤں زمین پر نہیں تھے۔
"آپ... آپ انسان نہیں ہیں"
وہ ہلکا سا مسکرایا۔ "صحیح پہچانا۔ میں عارض ہوں۔ 1926 سے یہیں قید ہوں۔"
موم بتی بجھ گئی۔ اندھیرے میں صرف اس کی آواز گونجی:
"ڈرو مت۔ میں تمہیں نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ میں تو بس... تمہارا انتظار کر رہا تھا"
To be continued...